کتنے گرداب تہِ آب اُٹھا دیتی ہیں
تیری آنکھیں کسی دریا کا پتا دیتی ہیں
میں بھٹکنے جو لگوں شہر کی ویراں سڑکیں
ایسا ہوتا ہے مجھے، مجھ سے ملا دیتی ہیں
تتلیاں پھول سے کرتی ہیں ہماری باتیں
لڑکیاں عشق میں اندھی نہیں ہوتیں لیکن
اپنی آنکھیں کسی دستک پہ لگا دیتی ہیں
صبر دشمن پہ مِری دھاک بٹھا دیتا ہے
اور دعائیں تو مِرے کام بنا دیتی ہیں
اپنے بچوں کی خوشی کے لیے مائیں عامیؔ
روتے روتے بھی کوئی لوری سنا دیتی ہیں
یہ درختوں سے نکلتی ہوئی شاخیں عامیؔ
آگ لگتی ہے تو، جنگل کو ہوا دیتی ہیں
عمران عامی
No comments:
Post a Comment