جو بوجھ اُٹھ نہيں سکتا اُٹھانا پڑتا ہے
بغیر عشق کِیے بھی جتانا پڑتا ہے
دِکھانا پڑتا ہے پہلے چراغ رَستے کو
پھر اس چراغ کو رَستہ دِکھانا پڑتا ہے
یہ تیرا شہر بھی کیا داستاں سرائے ہے
تم ایک دل کے خسارے پہ ہو اداس بہت
محبتوں میں بڑا دُکھ اٹھانا پڑتا ہے
وہ شخص میرے لیے آئینہ بنا ہوا ہے
جو دیکھتا ہوں اُسے بھی دکھانا پڑتا ہے
تمہیں تو خیر میسر ہیں اَنفس و آفاق
ہمیں تو رزق کے چکر میں آنا پڑتا ہے
یہ دشتِ عشق نہيں، شہرِ عقل ہے عامیؔ
یہاں تو پہلے تعارف کرانا پڑتا ہے
عمران عامی
No comments:
Post a Comment