Friday, 8 April 2016

چپ چاپ تکے جاتے ہو خاموش سوالو

چپ چاپ تکے جاتے ہو خاموش سوالو
اس سوچ کے دریا سے زرا مجھ کو نکالو
بجنے نہ لگے دل کا یہ کشکول اچانک
یادوں کے چمکتے ہوئے سِکے نہ اچھالو
اب پوچھتے ہو، زہر کا تریاق کوئی ہے؟
کتنا تمہیں سمجھایا تھا، تم سانپ نہ پالو
یہ روگ لگا کیسے مجھے، کس نے لگایا؟
کیا تم کو بتاؤں، اے مِرے پوچھنے والو
آسیب نگر ہے یہ محبت کا جہاں بھی
اب تم ہی چلے آؤ مجھے اِس سے بچا لو
پوروں میں اترنے کا ہُنر اِس کو پتہ ہے
شیشے کا یہ بت ٹوٹ چکا ہے نہ سنبھالو
اب اِس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے
وہ غیر ہوا جاتا ہے تم سر کو جھُکا لو
سنتا ہے بھلا کون یہاں دل کی صدائیں؟
چاہو تو زمیں، آسماں تم سر پہ اٹھا لو

فاخرہ بتول

No comments:

Post a Comment