چپ چاپ تکے جاتے ہو خاموش سوالو
اس سوچ کے دریا سے زرا مجھ کو نکالو
بجنے نہ لگے دل کا یہ کشکول اچانک
یادوں کے چمکتے ہوئے سِکے نہ اچھالو
اب پوچھتے ہو، زہر کا تریاق کوئی ہے؟
یہ روگ لگا کیسے مجھے، کس نے لگایا؟
کیا تم کو بتاؤں، اے مِرے پوچھنے والو
آسیب نگر ہے یہ محبت کا جہاں بھی
اب تم ہی چلے آؤ مجھے اِس سے بچا لو
پوروں میں اترنے کا ہُنر اِس کو پتہ ہے
شیشے کا یہ بت ٹوٹ چکا ہے نہ سنبھالو
اب اِس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے
وہ غیر ہوا جاتا ہے تم سر کو جھُکا لو
سنتا ہے بھلا کون یہاں دل کی صدائیں؟
چاہو تو زمیں، آسماں تم سر پہ اٹھا لو
فاخرہ بتول
No comments:
Post a Comment