دل میں درد محبت کیسے بوتی رہتی ہے
جیسی پلکوں بیچ سدا سے جوتی رہتی ہے
اس نے پوچھا، کیا لکھا ہے ہاتھ کی ریکھا میں
میں نے کہا، اپنی قسمت ہے، سوتی رہتی ہے
بولو کس نے ترکِ محبت کی بنیاد رکھی
روتے روتے ہنس دینے میں آخر راز ہے کیا
غم میں راحت کی آمیزش ہوتی رہتی ہے
پلکوں سے اشکوں کی رفاقت آخر ٹھہری کیوں
بدلی سے بھی پوچھو نا کیوں روتی رہتی ہے
فاخرہ بتول
No comments:
Post a Comment