ایک نگر کے نقش بھُلا دوں ایک نگر ایجاد کروں
ایک طرف خاموشی کر دوں ایک طرف آباد کروں
منزلِ شب جب طے کرنی ہے اپنے اکیلے دَم سے ہی
کس کے لیے اس جگہ پہ رک کر دن اپنا برباد کروں
بہت قدیم کا نام ہے کوئی ابر و ہوا کے طوفاں میں
جا کے سنوں آثار چمن میں سائیں سائیں شاخوں کی
خالی محل کے بُرجوں سے دیدارِ برق و باد کروں
شعر منیرؔ لکھوں میں اٹھ کر صحن سحر کے رنگوں میں
یا پھر کام یہ نظمِ جہاں کا شام ڈھلے کے بعد کروں
منیر نیازی
No comments:
Post a Comment