Wednesday, 6 April 2016

پڑھ کے قاصد خط مرا اس بد زباں نے کیا کہا

پڑھ کے قاصد خط مرا اس بد زباں نے کیا کہا
کیا کہا، پھر کہہ، بتِ نامہرباں نے کیا کہا
غیر سے ملنا تمہارا سن کے گو ہم چپ رہے
پر سنا ہو گا کہ تم کو اک جہاں نے کیا کہا 
گالیوں کی جھاڑ باندھی قصد سرگوشی میں رات
کیا کہا چاہے تھا میں، اس بد گماں نے کیا کہا
سب خراجِ مصر دے کر تھا زلیخا کو یہ سوچ
مول یوسفؑ سے پسر کا کارواں نے کیا کہا
آہ، اے مرغِ چمن کچھ تُو بھی واقف ہے کہ صبح
گل نے کیا پوچھا تھا ہنس کر باغباں نے کیا کہا
پھر لہو ٹپکے ہے پیارے آج کچھ باتوں کے بیچ
سچ کہو، لب سے تمہارے رنگِ پاں نے کیا کہا
قائمؔ اس کوچہ سے شبِ غمگیں نہ آتا تھا یونہی
کیا کہوں تجھ سے کہ اس کو پاسباں نے کیا کہا

قائم چاند پوری

No comments:

Post a Comment