Wednesday, 6 April 2016

دل پا کے اس کی زلف میں آرام رہ گیا

دل پا کے اس کی زلف میں آرام رہ گیا
درویش جس جگہ کہ ہوئی شام رہ گیا
جھگڑے میں ہم مبادی کے یاں تک پھنسے کہ آہ 
مقصود تھا جو اپنے تئیں کام رہ گیا 
ناپختگی کا اپنی سبب اس ثمر سے پوچھ
جلدی سے باغباں کی جو وہ خام رہ گیا
صیاد تُو تو جا ہے پر اس کی بھی کچھ خبر
جو مرغِ ناتواں کہ تہِ دام رہ گیا
قسمت تو دیکھ ٹوٹی ہے جا کر کہاں کمند
کچھ دور اپنے ہاتھ سے جب بام رہ گیا  
ماریں ہیں ہم نگینِ سلیماں کو پشتِ دست
جب مٹ گیا نشان تو گو نام رہ گیا
نے تجھ پہ وہ بہار رہی اور نہ یاں وہ دل
کہنے کو نیک و بد کے اِک الزام رہ گیا
موقوف کچھ کمال پہ یاں کامِ دل نہیں
مجھ کو ہی دیکھ لینا کہ ناکام رہ گیا
قائمؔ گئے سب اسکی زباں سے جو تھے رفیق
اِک بے حیا میں کھانے کو دُشنام رہ گیا

قائم چاند پوری

No comments:

Post a Comment