Thursday, 3 November 2016

مقابل آپ کی آنکھوں کے آہو ہو نہیں سکتا

مقابل آپ کی آنکھوں کے آہو ہو نہیں سکتا ​
انہیں کے آگے جادوگر سے جادو ہو نہیں سکتا​
مِری آنکھوں سے کیا نِسبت کہ قطرہ آبِ نیساں کا​
درِ نایاب ہو سکتا ہے،۔۔ آنسو ہو نہیں سکتا​
بنا گو سجدہ گاہِ اہلِ ایماں، طاق کعبے کا​
مگر حاصل مقامِ طاقِ ابرو ہو نہیں سکتا​
گداۓ کوچہ کیا درویشِ صحرا گرد کے آگے​
کوئی کتا کبھی وحشت سے آہو ہو نہیں سکتا​
کمال اے ماہِ کامل! تُو نے گو پیدا کیا، لیکن​
ہلالِ عید ہو سکتا ہے، ابرو ہو نہیں سکتا​
لہو سارے بدن کا کر دیا ہے خشک فرقت نے​
مگر اے آہ! تجھ سے خشک آنسو ہو نہیں سکتا​
کرے کیا استفادہ، اس کو استعداد لازم ہے​
کہ برگِ شاخِ گلبن گل سے خوشبو ہو نہیں سکتا​
نزاکت شاخِ گل میں ہے کہاں اس گل سے ہاتھوں کی​
کوئی گلبرگ بھی تعویذِ بازو ہو نہیں سکتا​
ہے اس آتش کے پرکالے سے فرقت ابکے جاڑے میں​
سوائے داغِ حسرت گرم پہلو ہو نہیں سکتا​
جو ہوا پہلو نشیں تو کر گیا پہلو تہی ہم سے​
جدا پہلو سے دم بھر دردِ پہلو ہو نہیں سکتا​
ہوا جو خودنما اس باغ میں جلدی فنا ہو گا​
قیامِ رنگِ گل تا ہستئ بو ہو نہیں سکتا​

امام بخش ناسخ

No comments:

Post a Comment