Tuesday, 1 November 2016

اب مری جان پہ مشکل نہ بناؤ جاؤ

اب مِری جان پہ مشکل نہ بناؤ، جاؤ
زندگی! درد کا سامان اٹھاؤ، جاؤ
ہم محبت ہی عبادت کی طرح کرتے ہیں
واعظو! ہم کو عبادت نہ سکھاؤ، جاؤ
ہے ہمیں راس یہ گمنام جزیرے کی فضا
گر کمانا ہے تمہیں نام، کماؤ، جاؤ
لو گلا گھونٹ دیا ہم نے چراغوں کا یہاں
تم کو جانا ہے اگر چھوڑ کے جاؤ، جاؤ
ہم نے ہموار بنا ڈالا ہے اس کا رستہ
دوستو! دشت میں آرام سے آؤ، جاؤ
تم کو اک ہجر نے بے حال سا کر رکھا ہے
جاؤ ، ہم کو یہ کہانی نہ سناؤ ، جاؤ
جو ہمہ وقت لگاتا تھا اناالحق کی صدا
اس دیوانے کو ابھی ڈھونڈ کے لاؤ، جاؤ
مت ڈرو دشت کے پُرخوف علاقے سے سعیدؔ
آ گئے ہو تو یہاں خاک اڑاؤ، جاؤ

مبشر سعید

No comments:

Post a Comment