Thursday, 22 December 2016

سب چہروں پر ایک ہی رنگ اور سب آنکھوں میں ایک ہی خواب

سب چہروں پر ایک ہی رنگ اور سب آنکھوں میں ایک ہی خواب
پھر بھی جانے بستی بستی مقتل کیوں ہے شہرِ گلاب
“وحشتِ بام و در کہتی ہے،۔ ”اور بلائیں آئیں گی
اب جو بلائیں آئیں تو لوگو! رن ہو گا بے حد و حساب
جب بھی کبھی شبخون پڑا تو اہلِ چمن خاموش رہے
موسمِ گل میں جس کو دیکھو میری شاخیں میرے گلاب
ہم سے کوئی پوچھے تو بتائیں کیا کچھ ہم پر بیت گئی
کہاں کہاں گہنائے سورج، کہاں کہاں ڈوبے مہتاب
آؤ، شمعیں سب گل کر دو، کہہ دو جانے والے جائیں
اب ہر دن پیکار کا دن ہے، اب ہر دن ہے روزِ حساب
پیاس کی باتیں کہتے سنتے کتنے موسم آئے گئے
کوئی سبیلِ کوہ کنی بھی، کب تک ذکرِ قحطِ آب
ہم بے در بے گھر لوگوں کی ایک دعا، بس ایک دعا
مالک!! شہرِ گلاب سلامت ہم پر جو بھی آئے عذاب

افتخار عارف

No comments:

Post a Comment