سب چہروں پر ایک ہی رنگ اور سب آنکھوں میں ایک ہی خواب
پھر بھی جانے بستی بستی مقتل کیوں ہے شہرِ گلاب
“وحشتِ بام و در کہتی ہے،۔ ”اور بلائیں آئیں گی
اب جو بلائیں آئیں تو لوگو! رن ہو گا بے حد و حساب
جب بھی کبھی شبخون پڑا تو اہلِ چمن خاموش رہے
ہم سے کوئی پوچھے تو بتائیں کیا کچھ ہم پر بیت گئی
کہاں کہاں گہنائے سورج، کہاں کہاں ڈوبے مہتاب
آؤ، شمعیں سب گل کر دو، کہہ دو جانے والے جائیں
اب ہر دن پیکار کا دن ہے، اب ہر دن ہے روزِ حساب
پیاس کی باتیں کہتے سنتے کتنے موسم آئے گئے
کوئی سبیلِ کوہ کنی بھی، کب تک ذکرِ قحطِ آب
ہم بے در بے گھر لوگوں کی ایک دعا، بس ایک دعا
مالک!! شہرِ گلاب سلامت ہم پر جو بھی آئے عذاب
افتخار عارف
No comments:
Post a Comment