Sunday, 11 December 2016

مٹی کی عمارت سایہ دے کر مٹی میں ہموار ہوئی

مٹی کی عمارت سایہ دے کر مٹی میں ہموار ہوئی
ویرانی سے اب کام ہے اور ویرانی کس کی یار ہوئی
ڈر ڈر کے قدم وہ رکھتا ہے خوابوں کے صحرا میں
یہ ریگ ابھی زنجیر بنی، یہ چھاؤں ابھی دیوار ہوئی
ہر پتی بوجھل ہو کے گری سب شاخیں جھک کر ٹوٹ گئیں
اس بارش ہی سے فصل اجڑی، جس بارش سے تیار ہوئی
اب یہ بھی نہیں ہے بس میں کہ ہم پھولوں کی ڈگر پر لوٹ چلیں
جس راہ گزر پر چلنا ہے،۔ وہ راہ گزر تلوار ہوئی
چھوتی ہے جب ذرا تن کو ہوا چبھتے ہیں رگوں میں کانٹے سے
سو بار خزاں آئی ہو گی، محسوس اسے مگر اس بار ہوئی
وہ نالے ہیں بے تابی کے،۔ چیخ اٹھا ہے سناٹا بھی
یہ درد کی شب معلوم نہیں کب تک کے لئے بیدار ہوئی
لکھی ہیں شکستیں اتنی جہاں مقتل میں وہاں یہ بھی لکھ دو
کتنی شمشیریں ٹوٹ گئیں، کتنے دشمنوں کی ہار ہوئی
اب غیر ہوا کتنی ہی چلے اب گرم فضا کتنی ہی رہے
سینے کا زخم چراغ بنا دامن کی آگ بہار ہوئی

محشر بدایونی

No comments:

Post a Comment