مٹی کی عمارت سایہ دے کر مٹی میں ہموار ہوئی
ویرانی سے اب کام ہے اور ویرانی کس کی یار ہوئی
ڈر ڈر کے قدم وہ رکھتا ہے خوابوں کے صحرا میں
یہ ریگ ابھی زنجیر بنی، یہ چھاؤں ابھی دیوار ہوئی
ہر پتی بوجھل ہو کے گری سب شاخیں جھک کر ٹوٹ گئیں
اب یہ بھی نہیں ہے بس میں کہ ہم پھولوں کی ڈگر پر لوٹ چلیں
جس راہ گزر پر چلنا ہے،۔ وہ راہ گزر تلوار ہوئی
چھوتی ہے جب ذرا تن کو ہوا چبھتے ہیں رگوں میں کانٹے سے
سو بار خزاں آئی ہو گی، محسوس اسے مگر اس بار ہوئی
وہ نالے ہیں بے تابی کے،۔ چیخ اٹھا ہے سناٹا بھی
یہ درد کی شب معلوم نہیں کب تک کے لئے بیدار ہوئی
لکھی ہیں شکستیں اتنی جہاں مقتل میں وہاں یہ بھی لکھ دو
کتنی شمشیریں ٹوٹ گئیں، کتنے دشمنوں کی ہار ہوئی
اب غیر ہوا کتنی ہی چلے اب گرم فضا کتنی ہی رہے
سینے کا زخم چراغ بنا دامن کی آگ بہار ہوئی
محشر بدایونی
No comments:
Post a Comment