زندہ ہوتے ہوئے مر جائیں کیا
ہم تجھے چھوڑ کے گھر جائیں کیا
پھول بکھرا کے تِرے رستے میں
یعنی اب خود بھی بکھر جائیں کیا
ہاں تڑپتے ہیں تِری فرقت میں
شہر کا شہر جدھر جاتا ہو
ہم ضروری ہے ادھر جائیں کیا
خونِ دل سے کِیا رنگیں، خاورؔ
اور تصویر میں بھر جائیں کیا
خاور احمد
No comments:
Post a Comment