Sunday, 11 December 2016

زندہ ہوتے ہوئے مر جائیں کیا

زندہ ہوتے ہوئے مر جائیں کیا
ہم تجھے چھوڑ کے گھر جائیں کیا
پھول بکھرا کے تِرے رستے میں
یعنی اب خود بھی بکھر جائیں کیا
ہاں تڑپتے ہیں تِری فرقت میں
اب تِرے آگے مُکر جائیں کیا
شہر کا شہر جدھر جاتا ہو
ہم ضروری ہے ادھر جائیں کیا
خونِ دل سے کِیا رنگیں، خاورؔ 
اور تصویر میں بھر جائیں کیا

خاور احمد

No comments:

Post a Comment