سائبانوں سے نکل ہی جائیں
یوں سلگنے سے تو جل ہی جائیں
دھوپ چڑھتی ہے تو چڑھتی آئے
سائے ڈھلتے ہیں تو ڈھل ہی جائیں
ہم بدلتے نہیں پس منظر کو
ہم بھی چلتے ہیں، ستارے اپنی
چال چلتے ہیں تو چل ہی جائیں
منتخب خود کریں رستہ خاورؔ
گِر پڑیں پھر کہ سنبھل ہی جائیں
خاور احمد
No comments:
Post a Comment