Sunday, 11 December 2016

سائبانوں سے نکل ہی جائیں

سائبانوں سے نکل ہی جائیں
یوں سلگنے سے تو جل ہی جائیں
دھوپ چڑھتی ہے تو چڑھتی آئے
سائے ڈھلتے ہیں تو ڈھل ہی جائیں
ہم بدلتے نہیں پس منظر کو
آپ منظر کو بدل ہی جائیں
ہم بھی چلتے ہیں، ستارے اپنی
چال چلتے ہیں تو چل ہی جائیں
منتخب خود کریں رستہ خاورؔ 
گِر پڑیں پھر کہ سنبھل ہی جائیں

خاور احمد

No comments:

Post a Comment