فراغت
یوں تیری نگاہوں سے گلہ کچھ بھی نہیں
اس دل نے تو بے کار یونہی بیٹھے بٹھائے
ویرانئ لمحات کو بہلانے کی خاطر
افسانے گھڑے، باتیں بنا لی تھیں ہزاروں
بے کار ہے، اب وقت کہاں اس کو سنوں میں
جب تجھ کو فراغت نہ تھی، اب مجھ کو نہیں
بلراج کومل
No comments:
Post a Comment