Friday, 9 December 2016

شب کو اک بار کھل کے روتا ہوں

شب کو اک بار کھل کے روتا ہوں
پھر بڑے سکھ کی نیند سوتا ہوں
اشک آنکھوں کے بیج ہوتے ہیں
میں انہیں کھیت کھیت بوتا ہوں
میرے آنسو کبھی نہیں رکتے
میں ہمیشہ وضو میں ہوتا ہوں
ہوتا جاتا ہوں اس سخی کے قریب
جیسے جیسے غریب ہوتا ہوں

انجم خیالی

No comments:

Post a Comment