Friday, 23 December 2016

اکیلی

اکیلی
(ایک بے سہارا لڑکی کی فریاد)

اجنبی اپنے قدموں کو روکو ذرا
جانتی ہوں تمہارے لیے غیر ہوں
پھر بھی ٹھہرو ذرا
سنتے جاؤ یہ اشکوں بھری داستاں
ساتھ لیتے چلو یہ مجسم فغاں

آج دنیا میں میرا کوئی بھی نہیں
میری امی نہیں
میرے ابا نہیں
میری آپا نہیں
میرے ننھے سے معصوم بھیا نہیں
میری عصمت کی محفوظ کرنیں نہیں
وہ گھروندا نہیں جس کے ساۓ تلے
لوریوں کے ترنم کو سنتی رہی
پھول چنتی رہی
گیت گاتی رہی
مسکراتی رہی
آج کچھ بھی نہیں
میری نظروں کے سہمے ہوۓ آئینے
میری امی کے میرے ابا کے آپا کے
اور میرے ننھے سے معصوم بھیا کے
خون سے ہیں دہشت زدہ
آج میری نگاہوں کی ویرانیاں
چند مجروح یادوں سے آباد ہیں
آج میری امنگوں کے سوکھے کنول
میرے اشکوں کے پانی سے شاداب ہیں
آج میری تڑپتی ہوئی سسکیاں
اک سازِ شکستہ کی فریاد ہیں
اور کچھ بھی نہیں
بھوک مٹتی نہیں
تن پہ کپڑا نہیں
آس معدوم ہے
آج دنیا میں میرا کوئی بھی نہیں
اجنبی اپنے قدموں کو روکو ذرا
سنتے جاؤ یہ اشکوں بھری داستاں
ساتھ لیتے چلو یہ مجسم فغاں
میری امی بنو
میرے ابا بنو
میری آپا بنو
میرے ننھے سے معصوم بھیا بنو
میری عصمت کے محافظ بنو
میرے کچھ تو بنو
میرے کچھ تو بنو
میرے کچھ تو بنو

بلراج کومل

No comments:

Post a Comment