Friday, 23 December 2016

میرے حسین خیالو مجھے فریب نہ دو

میرے حسین خیالو! مجھے فریب نہ دو
سنہرے جال ہٹا لو، مجھے فریب نہ دو
میں جانتا ہوں کہ سورج ہے شام تک مہماں
نئی سحر کے اجالو! مجھے فریب نہ دو
اے ساحلو! مجھے کیسا دلاسا طوفاں میں
تم اپنا آپ سنبھالو، مجھے فریب نہ دو
ہر آبشار فریبِ نظر ہے صحرا میں
میری ہوس کے غزالو! مجھے فریب نہ دو

مدن پال 

No comments:

Post a Comment