میرے حسین خیالو! مجھے فریب نہ دو
سنہرے جال ہٹا لو، مجھے فریب نہ دو
میں جانتا ہوں کہ سورج ہے شام تک مہماں
نئی سحر کے اجالو! مجھے فریب نہ دو
اے ساحلو! مجھے کیسا دلاسا طوفاں میں
ہر آبشار فریبِ نظر ہے صحرا میں
میری ہوس کے غزالو! مجھے فریب نہ دو
مدن پال
No comments:
Post a Comment