Sunday, 18 December 2016

سمندر کی ادائیں سیکھ لینا

سمندر کی ادائیں سیکھ لینا

سمندر کے کنارے
شہر ہیں آباد جتنے بھی
ہمیشہ ہی سے بربادی مقدر ان کا ہوتی ہے
سمندر
ساحلوں سے پیار کرتا ہے
مگر جو ساحلوں پر مست سوتے ہیں
وہ اکثر ڈوب جاتے ہیں
پیوست اور نحوست کی سبھی موسم جہازی ساتھ لاتے ہیں
سمندر کے کنارے
تم جو رہتے ہو
سمندر کی ادائیں اب رویے میں
تمہارے گھلتی جاتی ہیں
وہی نمکیں سا بھیگا ہوا لہجہ
سمندر جھاگ جیسے دل
وہی رنگین سی باتیں
مگر معنی سے خالی ہیں
سمندر کے کنارے تم جو رہتے ہو
سمندر کی ادائیں
سیکھ لینا فرض ہے تم پر
مگر یہ یاد رکھنا
ساحلوں پر جو بھی گہری نیند سوتے ہیں
سمندر ان کو لے جاتا ہے
اپنی خوابگاہوں میں

فہیم شناس کاظمی

No comments:

Post a Comment