سمندر کی ادائیں سیکھ لینا
سمندر کے کنارے
شہر ہیں آباد جتنے بھی
ہمیشہ ہی سے بربادی مقدر ان کا ہوتی ہے
سمندر
ساحلوں سے پیار کرتا ہے
وہ اکثر ڈوب جاتے ہیں
پیوست اور نحوست کی سبھی موسم جہازی ساتھ لاتے ہیں
سمندر کے کنارے
تم جو رہتے ہو
سمندر کی ادائیں اب رویے میں
تمہارے گھلتی جاتی ہیں
وہی نمکیں سا بھیگا ہوا لہجہ
سمندر جھاگ جیسے دل
وہی رنگین سی باتیں
مگر معنی سے خالی ہیں
سمندر کے کنارے تم جو رہتے ہو
سمندر کی ادائیں
سیکھ لینا فرض ہے تم پر
مگر یہ یاد رکھنا
ساحلوں پر جو بھی گہری نیند سوتے ہیں
سمندر ان کو لے جاتا ہے
اپنی خوابگاہوں میں
فہیم شناس کاظمی
No comments:
Post a Comment