چار سو ہونے کا نشہ اور میں
آئینہ خانے کی فضا اور میں
خود فریبی کی انتہا اور دل
ایک آسائشِ فنا اور میں
چار جانب تماشا جاری ہے
کوئی عالم ہو، کوئی موسم ہو
ساتھ رہتے ہیں کربلا اور میں
اک زمانے سے خالی کٹیا میں
اک پیالہ ہے اک دِیا اور میں
شعر سے آدمی پرکھتے ہیں
صرف اب میرزا رسا اور میں
فہیم شناس کاظمی
No comments:
Post a Comment