Sunday, 18 December 2016

چار سو ہونے کا نشہ اور میں

چار سو ہونے کا نشہ اور میں
آئینہ خانے کی فضا اور میں
خود فریبی کی انتہا اور دل
ایک آسائشِ فنا اور میں
چار جانب تماشا جاری ہے
دیکھتے رہتے ہیں خدا اور میں
کوئی عالم ہو، کوئی موسم ہو
ساتھ رہتے ہیں کربلا اور میں
اک زمانے سے خالی کٹیا میں
اک پیالہ ہے اک دِیا اور میں
شعر سے آدمی پرکھتے ہیں
صرف اب میرزا رسا اور میں

فہیم شناس کاظمی

No comments:

Post a Comment