دسمبر کی نظم
دل ہے کوچہ گرد
میری آنکھوں سے دل تک ہیں
سارے موسم زرد
کتنی صدیوں سے گرتی ہے
مجھ پہ غموں کی گرد
رکھا ہے بے نام جنوں نے
یوں آوارہ گرد
چھان چکا میں ارض وسما کو
نہیں ملا بے درد
ہوں آج بھی راہ نورد
رفتہ رفتہ تیز ہوئی ہے
غم کی ہواۓ سرد
میں آوارہ گرد
فہیم شناس کاظمی
No comments:
Post a Comment