ہدیۂ نعت بحضور سرور کائناتﷺ
دے تبسم کی خیرات ماحول کو، ہم کو درکار ہے روشنی یا نبیﷺ
ایک شیریں جھلک، ایک نوری ڈھلک، تلخ و تاریک ہے زندگی یا نبیﷺ
اے نویدِ مسیحا! تیری قوم کا، حال عیسٰیؑ کی بھیڑوں سے ابتر ہوا
اس کے کمزور اور بے ہنر ہاتھ سے، چھین لی چرخ نے برتری یا نبیﷺ
کام ہم نے رکھا صرف اذکار سے، تیری تعلیم اپنائی اغیار نے
روح ویران ہے، آنکھ حیران ہے، ایک بحران تھا ایک بحران ہے
گلشنوں، شہروں، قریوں پہ ہے پُر فشاں، ایک گمبھیر افسردگی یا نبیﷺ
رازداں اس جہاں میں بناؤں کسے، روح کے زخم جا کر دکھاؤں کسے
غیر کے سامنے کیوں تماشا بنوں، کیوں کروں دوستوں کو دکھی یا نبیﷺ
زیست کے تپتے صحرا پہ شاہِ عربﷺ، تیرے اکرام کا ابر برسے گا کب
کب ہری ہو گی شاخِ تمنا میری، کب مٹے گی میری تشنگی یا نبیﷺ
حفیظ تائب
No comments:
Post a Comment