Thursday, 22 December 2016

وہ لطف و کرم وہ مدارات ہی نہیں

وہ لطف و کرم،۔ وہ مدارات ہی نہیں
کل کی سی ان میں آج کوئی بات ہی نہیں
میرے اور ایک جانِ تغافل کے درمیاں
پردے کچھ اور بھی ہیں مِری ذات ہی نہیں
مجھ پر نگاہ بھی ڈالی تو اس طرح
جیسے کہ انکی مجھ سے ملاقات ہی نہیں
نخشبؔ ہے ان سے ترکِ تعلق کی آرزو
پہلا سا وقت پہلے سے حالات ہی نہیں

نخشب جارچوی

No comments:

Post a Comment