وہ لطف و کرم،۔ وہ مدارات ہی نہیں
کل کی سی ان میں آج کوئی بات ہی نہیں
میرے اور ایک جانِ تغافل کے درمیاں
پردے کچھ اور بھی ہیں مِری ذات ہی نہیں
مجھ پر نگاہ بھی ڈالی تو اس طرح
نخشبؔ ہے ان سے ترکِ تعلق کی آرزو
پہلا سا وقت پہلے سے حالات ہی نہیں
نخشب جارچوی
No comments:
Post a Comment