Tuesday, 10 January 2017

دیکھ سکتے نہیں اس بزم میں اغیار مجھے

دیکھ سکتے نہیں اس بزم میں اغیار مجھے 
لے چلی ہائے کہاں حسرتِ دیدار مجھے
ایسی باتوں سے تو بہتر ہے خموشی واعظ 
کہ تِری ضد نے کیا اور گنہ گار مجھے
رحم آتا ہے دلِ زار! تِری حالت پر 
کاش ہو جائے تِری جان کا آزار مجھے
اپنے قاتل سے نہیں خون کا دعویٰ مجھ کو 
بلکہ خود جرمِِ محبت پہ ہے اقرار مجھے
ہو گئی کثرتِ اصیاں سے مِری وہ نوبت 
ہے یہ احسان ملا لیں جو گنہ گار مجھے
مانگتا ہے مِرے جینے کی دعائیں ظالم 
جان کر جی سے خفا، جان سے بیزار مجھے
بوئے ہیں تیری محبت نے ہزاروں کانٹے 
دل ملا ہے کہ ملا وادئ پُر خار مجھے
ہمنشین تجھ سے وہ ہیں، خاک کہوں خلوت میں
آج جو اس نے کہا ہے سرِ بازار مجھے
دل مِرا لے کے وہ پچھتائے ہیں دل میں اے داؔغ
نظر آتی ہے پھری چشمِ خریدار مجھے

داغ دہلوی

No comments:

Post a Comment