Wednesday, 11 January 2017

بہت دنوں سے نہیں اپنے درمیان وہ شخص

بہت دنوں سے نہیں اپنے درمیان وہ شخص
اداس کر کے ہمیں چل دیا کہاں وہ شخص
وہ جس کے نقشِ قدم سے چراغ جلتے تھے
جلے چراغ تو خود بن گیا دھواں وہ شخص
قریب تھا تو کہا ہم نے سنگ دل بھی اسے
ہوا جو دور تو لگتا ہے جانِ جاں وہ شخص
اس ایک شخص میں تھیں دلربائیاں کیا کیا
ہزار لوگ ملیں گے، مگر کہاں وہ شخص
وہ اس کا حسنِ دل آرا کہ چپ گناہ لگے
جو بے زباں تھے انہیں دے گیا زباں وہ شخص
یہ اس لیے کہ چمن کی فضا اداس نہ ہو
رہا ہے قیدِ قفس میں بھی نغمہ خواں وہ شخص
چھپا لیا جسے پت جھڑ کے زرد پتوں نے
ابھی تلک ہے بہاروں پہ حکمراں وہ شخص
ہمیں تو پیاس کے صحرا میں گنگناتے ہوئے 
دکھائی دیتا ہے اِک بحرِ بے کراں وہ شخص
قؔتیل کیسے بھلائیں ہم اہلِ درد اسے
دلوں میں چھوڑ گیا اپنی داستاں وہ شخص

قتیل شفائی

No comments:

Post a Comment