Wednesday, 11 January 2017

پتھر اسے نہ جان پگھلتا بھی دیکھ اسے

پتھر اسے نہ جان پگھلتا بھی دیکھ اسے
خود اپنے تجربات میں جلتا بھی دیکھ اسے
وہ صرف جسم ہی نہیں احساس بھی تو ہے
راتوں میں چاند بن کے نکلتا بھی دیکھ اسے
وہ دھڑکنوں کے شور سے بھی مطمئن نہ تھا
اب چند آہٹوں سے بہلتا بھی دیکھ اسے
آ ہی پڑا ہے وقت تو پھیلا لے ہاتھ بھی
اور ساتھ ساتھ آنکھ بدلتا بھی دیکھ اسے
سورج ہے وہ تو اس کی پرستش ضرور کر
سایا ہے وہ تو شام کو ڈھلتا بھی دیکھ اسے
نکلا تو ہے قتیلؔ وفا کی تلاش میں
زخموں کے پُل صراط پہ چلتا بھی دیکھ اسے

قتیل شفائی

No comments:

Post a Comment