پتھر اسے نہ جان پگھلتا بھی دیکھ اسے
خود اپنے تجربات میں جلتا بھی دیکھ اسے
وہ صرف جسم ہی نہیں احساس بھی تو ہے
راتوں میں چاند بن کے نکلتا بھی دیکھ اسے
وہ دھڑکنوں کے شور سے بھی مطمئن نہ تھا
آ ہی پڑا ہے وقت تو پھیلا لے ہاتھ بھی
اور ساتھ ساتھ آنکھ بدلتا بھی دیکھ اسے
سورج ہے وہ تو اس کی پرستش ضرور کر
سایا ہے وہ تو شام کو ڈھلتا بھی دیکھ اسے
نکلا تو ہے قتیلؔ وفا کی تلاش میں
زخموں کے پُل صراط پہ چلتا بھی دیکھ اسے
قتیل شفائی
No comments:
Post a Comment