نہ اب کوئی رقیب ہے، نہ کل کوئی رقیب تھا
میں اب بھی خوش نصیب ہوں میں کل بھی خوش نصیب تھا
بہائیں میں نے کشتیاں، سدا اسی بہاؤ پر
کہ ہنس کے جو ملا مجھے، وہی مرا حبیب تھا
اداسیوں کے شہر میں، اگرچہ فاصلے بھی تھے
گلوں سے پیار ہی نہیں تو مجھ کو خار کیوں چبھیں
جو کل تڑپ کے مر گیا، وہ کوئی عندلیب تھا
سبھی تھے مبتلائے غم، مجھے نہ فکر تھی کوئی
یہ اس لیے کہ شہر میں، بس ایک میں ہی غریب تھا
بدل بدل کے صورتیں، ملا جو ہر برس مجھے
قتیلؔ میری عمر کا وہ آدمی عجیب تھا
قتیل شفائی
No comments:
Post a Comment