Wednesday, 11 January 2017

نہ اب کوئی رقیب ہے نہ کل کوئی رقیب تھا

نہ اب کوئی رقیب ہے، نہ کل کوئی رقیب تھا
میں اب بھی خوش نصیب ہوں میں کل بھی خوش نصیب تھا
بہائیں میں نے کشتیاں، سدا اسی بہاؤ پر
کہ ہنس کے جو ملا مجھے، وہی مرا حبیب تھا
اداسیوں کے شہر میں، اگرچہ فاصلے بھی تھے
وہ دور مجھے سے رہ کے بھی، مرے بہت قریب تھا
گلوں سے پیار ہی نہیں تو مجھ کو خار کیوں چبھیں
جو کل تڑپ کے مر گیا، وہ کوئی عندلیب تھا
سبھی تھے مبتلائے غم، مجھے نہ فکر تھی کوئی
یہ اس لیے کہ شہر میں، بس ایک میں ہی غریب تھا
بدل بدل کے صورتیں، ملا جو ہر برس مجھے
قتیلؔ میری عمر کا وہ آدمی عجیب تھا

قتیل شفائی

No comments:

Post a Comment