لو چل دئیے وہ ہم کو تسلی دئیے بغیر
اک چاند چھپ گیا ہے اجالا کئے بغیر
ان سے بچھڑ کے ہم کو تمنا ہے موت کی
آتی نہیں ہے موت بھی لیکن جیئے بغیر
مانگے سے مل سکی نہ ہمیں ایک بھی خوشی
اے ضبطِ عشق اور نہ لے امتحانِ غم
ہم رو رہے ہیں نام کسی کا لیے بغیر
قتیل شفائی
No comments:
Post a Comment