Wednesday, 11 January 2017

لو چل دئیے وہ ہم کو تسلی دئیے بغیر

لو چل دئیے وہ ہم کو تسلی دئیے بغیر
اک چاند چھپ گیا ہے اجالا کئے بغیر
ان سے بچھڑ کے ہم کو تمنا ہے موت کی
آتی نہیں ہے موت بھی لیکن جیئے بغیر
مانگے سے مل سکی نہ ہمیں ایک بھی خوشی
پائے ہیں لاکھ رنج تمنا کیئے بغیر
اے ضبطِ عشق اور نہ لے امتحانِ غم
ہم رو رہے ہیں نام کسی کا لیے بغیر

قتیل شفائی

No comments:

Post a Comment