Tuesday, 10 January 2017

بے تابیوں میں تنگ ہم آئے ہیں جان سے

بیتابیوں میں تنگ ہم آئے ہیں جان سے
وقت شکیب خوش کہ گیا درمیان سے
داغِ فراق و حسرت وصل آرزوئے دید
کیا کیا لیے گئے ترے عاشق جہان سے
ہم خامشوں کا ذکر تھا شب اسکی بزم میں
نکلا نہ حرفِ خیر کسو کی زبان سے
آبِ خضر سے بھی نہ گئی سوزشِ جگر
کیا جانیئے یہ آگ ہے کس دودمان سے
جز عشق جنگِ دہر سے مت پڑھ کہ خوش ہیں ہم
اس قصے کی کتاب میں اس داستان سے
آنے کا اس چمن میں سبب بے کلی ہوئی
جوں برق ہم تڑپھ کے گرے آشیان سے
اب چھیڑ یہ رکھی ہے کہ عاشق ہے تو کہیں
القصہ خوش گزرتی ہے اس بدگمان سے
کینے کی میرے تجھ سے نہ چاہے گا کوئی داد
میں کہہ مروں گا اپنے ہر اک مہربان سے
داغوں سے ہے چمن جگر میؔر دہر میں
ان نے بھی گل چنے بہت اس گلستان سے

میر تقی میر

No comments:

Post a Comment