اک فسانہ سن گئے اک کہہ گئے
میں جو رویا، مسکرا کر رہ گئے
یا تِرے محتاج ہیں اے خونِ دل
یا انہیں آنکھوں سے دریا بہہ گئے
تو سلامت ہے تو ہم اے درد دل
پھر کسی کی یاد نے تڑپا دیا
پھر کلیجہ تھام کر ہم رہ گئے
اٹھ گئے دنیا سے فانی اہلِ ذوق
ایک ہم مرنے کے زندہ رہ گئے
فانی بدایونی
No comments:
Post a Comment