Wednesday, 16 September 2020

سنگدل رواجوں کی یہ عمارت کہنہ

ایک لڑکی سے

سنگدل رواجوں کی
یہ عمارتِ کہنہ
اپنے آپ پر نادم
اپنے بوجھ سے لرزاں
جس کا ذرہ ذرہ ہے
خود شکستگی ساماں

سب خمیدہ دیواریں
سب جھکی ہوئی کڑیاں
سنگدل رواجوں کے
خستہ حال زنداں میں
اک صدائے مستانہ
ایک رقصِ رندانہ
یہ عمارتِ کہنہ 
ٹوٹ بھی تو سکتی ہے
یہ اسیر شہزادی 
چھوٹ بھی تو سکتی ہے
یہ اسیر شہزادی
جبر و خوف کی دُختر
واہموں کی پروردہ
مصلحت سے ہم بستر
ضعف و یاس کی مادر
جب نجات پائے گی
سانس لے گی درانہ
محوِ رقصِ رندانہ
اپنی ذات پائے گی
تُو ہے وہ زنِ زندہ
جس کا جسم شعلہ ہے
جس کی روح آہن ہے
جس کا نطق گویا ہے
بازوؤں میں قوت ہے
انگلیوں میں صناعی
ولولوں میں بے باقی
لذتوں کی شیدائی
عشق آشنا عورت
وصل آشنا عورت 
مادرِ خداوندی
آدمی کی محبوبہ

فہمیدہ ریاض

No comments:

Post a Comment