گفتگوئے شاہین خوش خصال و شیریں مقال
کہنے لگے اک بلند پرواز شاہیں اک مور سے
کہ اے مور
جنگل کو اگر تُو چاہتا ہے
آخر اس کا ثبوت کیا ہے
تُو نے کوٹھی نہیں بنائی
معصوموں کو کیا نہ اغواء
لوٹا نہیں مال بے کسوں کا
بنکوں سے بھی لیا نہ قرضہ
اربوں کھربوں حساب جس کا
اے مور خدا کی تجھ پہ ہو مار
ثابت یہ ہوا کہ تُو ہے غدار
تُو شاتم دیں ضرور ہو گا
اور یہ بھی ہے اطلاعِ خفیہ
تیرے دل کو نہیں لبھاتا
جنگل کے نظام کا نظریہ
پس کیوں نہ کریں تجھے گرفتار
یا بھوکا کیوں نہ دیں یہیں مار
اس رقص سے کیا ہمیں سروکار
منہ اپنا سا لے کے رہ گیا مور
تھا اس میں کہاں اڑان کا زور
سن کر شاہیں کی آہ و زاری
کرگس یہ خلال کر کے بولا
خرگوش، گلہریاں، چکارے
پھرتے ہیں بنوں میں مارے مارے
ان کا نقب ہی شکار کرنا
بس کارِ کڈھب ہی کار کرنا
بارش میں ناچتا ہے بدمست
سب کا اخلاق کر دیا پست
جنگل کے درمیاں یہ جب تھا
تب میں ہی اس کا محتسب تھا
مانگی تھی مختصر کمیشن
وہ بھی تو نہ اس سے پڑ سکی بن
ہیں مور وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے
فہمیدہ ریاض
No comments:
Post a Comment