Wednesday, 16 September 2020

کبھی تم نے سوچا کرو ذکر جب اپنی قدروں کا

حاشیہ

کبھی تم نے سوچا
کرو ذکر جب اپنی قدروں کا
اور اپنے مشرق کی اخلاق کی رفعتوں کا
جہاں سے نظر تم کو آتا رہا ہے
تمدن پرایا نہایت حقیر

کرو جب رقم ضوفشاں داستاں
اپنے اعلیٰ عروجوں کے اوصاف کی
تو اک حاشیہ اس میں تاریک چھوڑو
کہ لیٹی ہوئی ہیں وہاں با حیا مشرقی عورتیں
جن کو چشم فلک نے نہ دیکھا کبھی
وہاں درج ہے ان کے جسموں پر خود ان کے ہاتھوں سے
تحریر ہوتی کہانی
تسلسل سے اب تک لکھی جارہی ہے
بہت قابل رحم ہے یہ داستاں
ہے تمہارے تمدن کا وہ حاشیہ
کہ اوجھل رہا ہے سب کی نظروں سے اب تک
اب اتنا بتا دو
کہ تم اس سے نظریں چراؤ گے کب تک

فہمیدہ ریاض

No comments:

Post a Comment