حاشیہ
کبھی تم نے سوچا
کرو ذکر جب اپنی قدروں کا
اور اپنے مشرق کی اخلاق کی رفعتوں کا
جہاں سے نظر تم کو آتا رہا ہے
تمدن پرایا نہایت حقیر
کرو جب رقم ضوفشاں داستاں
اپنے اعلیٰ عروجوں کے اوصاف کی
تو اک حاشیہ اس میں تاریک چھوڑو
کہ لیٹی ہوئی ہیں وہاں با حیا مشرقی عورتیں
جن کو چشم فلک نے نہ دیکھا کبھی
وہاں درج ہے ان کے جسموں پر خود ان کے ہاتھوں سے
تحریر ہوتی کہانی
تسلسل سے اب تک لکھی جارہی ہے
بہت قابل رحم ہے یہ داستاں
ہے تمہارے تمدن کا وہ حاشیہ
کہ اوجھل رہا ہے سب کی نظروں سے اب تک
اب اتنا بتا دو
کہ تم اس سے نظریں چراؤ گے کب تک
فہمیدہ ریاض
No comments:
Post a Comment