Wednesday, 16 September 2020

تم بالکل ہم جیسے نکلے

تم بالکل ہم جیسے نکلے
اب تک کہاں چھپے تھے بھائی
وہ مُورکھتا، وہ گھامڑ پن
جس میں ہم نے صدی گنوائی
آخر پہنچی دوار تمہارے
ارے بدھائی، بہت بدھائی

پریت دھرم کا ناچ رہا ہے
قائم ہندو راج کرو گے
سارے الٹے کاج کرو گے
اپنا چمن تاراج کرو گے
تم بھی بیٹھے کرو گے سوچا
پوری ہے ویسی تیاری
کون ہے ہندو، کون نہیں ہے
تم بھی کرو گے فتوے جاری
ہو گا کٹھن یہاں بھی جینا
دانتوں آ جائے گا پسینا
جیسی تیسی کٹا کرے گی
یہاں بھی سب کی سانس گھٹے گی
کل دکھ سے سوچا کرتے تھے
سوچ کے بہت ہنسی آ جائے
تم بالکل ہم جیسے نکلے 
ہم دو قوم نہیں تھے بھائی
بھاڑ میں جائے شِکشا وِکشا
اب جاہل پن کے گُن گانا
آگے گڑھا ہے یہ مت دیکھو
واپس لاؤ گیا زمانا
مشق کرو تم آ جائے گا
الٹے پاؤں چلتے جانا
دھیان نہ من میں دُوجا آئے
بس پیچھے ہی نظر جمانا
ایک جاپ سا کرتے جاؤ
بارم بار یہی دہراؤ
کیسا وِیر مہان تھا بھارت
کتنا عالی شان تھا بھارت
پھر تم لوگ پہنچ جاؤ گے
بس پرلوک پہنچ جاؤ گے
ہم تو ہیں پہلے سے وہاں پر
تم بھی سمے نکالتے رہنا
اب جس نرک میں جاؤ وہاں سے
چِٹھی وِٹھی ڈالتے رہنا

فہمیدہ ریاض

No comments:

Post a Comment