میرا دیس پیارا
وہ رنگین و دلکش زمیں کا کنارا
یہ نیلا سمندر جسے چومتا ہے
یہ موجوں کا ٹکراؤ جس کے کنار
جہاں چاندنی نور پھیلا رہی ہے
یہ آنکھوں کا تارا
میرا دیس پیارا
یہ کُہسار و نیلے چٹانوں کے قلعے
گھٹائیں جنہیں جھوم کر چومتی ہیں
سمندر کے انمول موتی کی لڑیاں
نچھاور کیے پھیلتی ہیں فضا میں
یہ دلکش نظارا
میرا دیس پیارا
یہ وادی، یہ سر سبز و شاداب خطے
جہاں سبزہ و گل کی بھینی مہک سے
دماغوں میں ایک کیف و اک جذبِ مستی
نگاہوں میں اک نور سا پھیلتا ہے
یہ رنگیں دُلارا
میرا دیس پیارا
یہ صحرا، یہ بد مست جھونکوں کا طوفاں
یہ ریتوں کا فرشِ درخشندہ و رنگیں
جہاں مہرِ تاباں کی ضو باد کرنیں
فضاؤں میں قوس و قزح کھینچتی ہیں
یہ زریں شرارا
میرا دیس پیار
یہ تپتا ہوا دشت دنیا میں یکتا
سرابوں کی دنیا، یہ پانی کا دھوکا
مسافر کو بہلا کے، ہمت بڑھا کے
دکھاتا ہے منزل کا خموش رستا
یہ دل کا سہارا
میرا دیس پیارا
یہ اسپید عمامۂ برف طلع
جو ہے کوہِ ماران و چلتن کے سر پر
فضیلت کی پگڑی ملی ہے ازل سے
میرے دیس کی پُر شکوہ رفعتوں کو
یہ عظمت کا تارا
میرا دیس پیارا
میر گل خان نصیر
No comments:
Post a Comment