Tuesday, 8 September 2020

عقدے الفت کے سب اے رشک قمر کھول دئیے

عقدے الفت کے سب اے رشک قمر کھول دئیے
سینہ یوں چاک کیا،۔ داغِ جگر کھول دیئے
سب حسینوں نے مِرے قتل پہ کمریں باندھیں
ڈورے تلواروں کے اور بند سپر کھول دیئے
آنکھیں کھولے ہوئے سب دیکھ رہے ہیں تجھ کو 
دل کے جانے کو یہ عشاق نے در کھول دیئے 
امتحان حسرت پرواز کا منظور ہوا 
ذبح کر کے مجھے صیاد نے پر کھول دیئے
شرم آئے گی مجھے لوگ سمجھ جائیں گے 
تم نے گیسو مِرے لاشے پر اگر کھول دیئے

رشید لکھنوی

No comments:

Post a Comment