عقدے الفت کے سب اے رشک قمر کھول دئیے
سینہ یوں چاک کیا،۔ داغِ جگر کھول دیئے
سب حسینوں نے مِرے قتل پہ کمریں باندھیں
ڈورے تلواروں کے اور بند سپر کھول دیئے
آنکھیں کھولے ہوئے سب دیکھ رہے ہیں تجھ کو
امتحان حسرت پرواز کا منظور ہوا
ذبح کر کے مجھے صیاد نے پر کھول دیئے
شرم آئے گی مجھے لوگ سمجھ جائیں گے
تم نے گیسو مِرے لاشے پر اگر کھول دیئے
رشید لکھنوی
No comments:
Post a Comment