لکھا ہے خدا جانے کیا شہر کی قسمت میں
شیشوں نے زباں کھولی پتھر کی حمایت میں
موضوعِ محبت پر سوچا نہ کرو، ورنہ
ممکن ہے کہ پڑ جاؤ تم بھی کسی آفت میں
سورج کے چمکنے کا ہم پر نہ اثر ہو گا
کیا اپنے نشیمن سے ہم پیار نہیں کرتے
یہ آگ تو لگتی ہے بجلی کی مروت سے
احباب کی چاہت کو رکھنا ہے اگر قائم
احباب سے کیوں ملئے ایامِ مصیبت میں
کیوں وقت کی آہٹ پر نظریں نہ علیم اٹھیں
گھنگھرو ہیں محبت کے پازیبِ سیاست میں
علیم عثمانی
No comments:
Post a Comment