چھین لی رونقِ مے خانہ انہِیں لوگوں نے
روک دی گردشِ پیمانہ انہیں لوگوں نے
بات صرف اتنی تھی ان سے تھی محبت مجھ کو
بس، اسے کر دیا افسانہ انہیں لوگوں نے
دل کی دنیا میں ہیں اب صرف امیدوں کے مزار
ہوش کی بات کبھی جس کی زباں سے نکلی
اس کو ٹھہرا دیا دیوانہ انہیں لوگوں نے
اپنی مٹی کی طرح خوب ہی کی ہے برباد
عظمتِ کعبہ و بت خانہ انہیں لوگوں نے
مذہبِ عشق میں جاں اپنی لٹانا ہے ثواب
ترک کی سنتِ پروانہ انہیں لوگوں نے
بیچ دی سرمہ فروشوں کی طرح وائے علیم
لے کے خاکِ درِ جانانہ انہیں لوگوں نے
علیم عثمانی
No comments:
Post a Comment