Saturday, 12 September 2020

اتنا تو یاد ہے مجھے کہ ان سے ملاقات ہوئی

فلمی گیت

اتنا تو یاد ہے مجھے کہ ان سے ملاقات ہوئی
او اتنا تو یاد ہے مجھے کہ ان سے ملاقات ہوئی
ہائے اتنا تو یاد ہے مجھے کہ ان سے ملاقات ہوئی
بعد میں جانے کیا ہوا، ہائے بعد میں جانے کیا ہوا 
**نہ جانے کیا بات ہوئی

وعدے وفا کے کر کے قسمیں اٹھا کے
کسی پہ دل لٹا کے چلا آیا
نظریں ملا کے، نیند اپنی گنوا کے
کسک دل میں بسا کے چلا آیا
دن تو گزر جائے گا، ہو او او دن تو گزر جائے گا
ہائے دن تو گزر جائے گا، کیا ہو گا جب رات ہوئی
اتنا تو یاد ہے مجھے

مارے حیا کے، میں تو آنکھیں جھکا کے
ذرا دامن بچا کے چلی آئی
پردہ ہٹا کے، ان کی باتوں میں آ کے
انہیں صورت دکھا کے چلی آئی
کس سے شکایت کروں، ہو او او کس سے شکایت کروں
ہائے کس سے شکایت کروں شرارت میرے ساتھ ہوئی
اتنا تو یاد ہے مجھے

تھی ایک کہانی، پہلے یہ زندگانی
انہیں دیکھا تو جینا مجھے آیا
دلبر او جانی، شرم سے پانی پانی
ہوئی میں بس پسینہ مجھے آیا
ایسے میں بھیگ گئی، ہو او او ایسے میں بھیگ گئی 
ہائے ایسے میں بھیگ گئی، جیسے کہ برسات ہوئی
اتنا تو یاد ہے مجھے
ہو او او اتنا تو یاد ہے مجھے کہ ان سے ملاقات ہوئی
ہائے اتنا تو یاد ہے مجھے کہ ان سے ملاقات ہوئی
اتنا تو یاد ہے مجھے

آنند بخشی

No comments:

Post a Comment