Monday, 14 September 2020

آج کیا حال ہے یا رب سر محفل میرا

آج کیا حال ہے یا رب سر محفل میرا
کہ نکالے لیے جاتا ہے کوئی دل میرا
سوز غم دیکھ نہ برباد ہو حاصل میرا
دل کی تصویر ہے ہر آئینۂ دل میرا
صبح تک ہجر میں کیا جانیے کیا ہوتا ہے
شام ہی سے مِرے قابو میں نہیں دل میرا
مل گئی عشق میں ایذا طلبی سے راحت
غم ہے اب جان مِری درد ہے اب دل میرا
پایا جاتا ہے تِری شوخیٔ رفتار کا رنگ
کاش پہلو میں دھڑکتا ہی رہے دل میرا
ہائے اس مرد کی قسمت جو ہوا دل کا شریک
ہائے، اس دل کا مقدر جو بنا دل میرا
کچھ کھٹکتا تو ہے پہلو میں مِرے رہ رہ کر
اب خدا جانے تِری یاد ہے یا دل میرا

جگر مراد آبادی

No comments:

Post a Comment