آج کیا حال ہے یا رب سر محفل میرا
کہ نکالے لیے جاتا ہے کوئی دل میرا
سوز غم دیکھ نہ برباد ہو حاصل میرا
دل کی تصویر ہے ہر آئینۂ دل میرا
صبح تک ہجر میں کیا جانیے کیا ہوتا ہے
مل گئی عشق میں ایذا طلبی سے راحت
غم ہے اب جان مِری درد ہے اب دل میرا
پایا جاتا ہے تِری شوخیٔ رفتار کا رنگ
کاش پہلو میں دھڑکتا ہی رہے دل میرا
ہائے اس مرد کی قسمت جو ہوا دل کا شریک
ہائے، اس دل کا مقدر جو بنا دل میرا
کچھ کھٹکتا تو ہے پہلو میں مِرے رہ رہ کر
اب خدا جانے تِری یاد ہے یا دل میرا
جگر مراد آبادی
No comments:
Post a Comment