نظر ملا کے، مِرے پاس آ کے لوٹ لیا
نظر ہٹی تھی، کہ پھر مسکرا کے لوٹ لیا
شکست حسن کا جلوہ دکھا کے لوٹ لیا
نگاہ نیچی کئے، سر جھکا کے لوٹ لیا
دہائی ہے،۔ مِرے اللہ کی دہائی ہے
سلام اس پہ کہ، جس نے اٹھا کے پردۂ دل
مجھی میں رہ کے مجھی میں سما کے لوٹ لیا
انہیں کے دل سے کوئی اس کی عظمتیں پوچھے
وہ ایک دل جسے سب کچھ لٹا کے لوٹ لیا
یہاں تو خود تِری ہستی ہے عشق کو درکار
وہ اور ہوں گے جنہیں مسکرا کے لوٹ لیا
خوشا وہ جان جسے دی گئی امانت عشق
رہے وہ دل جسے اپنا بنا کے لوٹ لیا
نگاہ ڈال دی جس پر حسین آنکھوں نے
اسے بھی حسن مجسم بنا کے لوٹ لیا
بڑے وہ آئے دل و جاں کے لوٹنے والے
نظر سے چھیڑ دیا گدگدا کے لوٹ لیا
رہا خراب محبت ہی وہ جسے تُو نے
خود اپنا درد محبت دکھا کے لوٹ لیا
کوئی یہ لُوٹ تو دیکھے کہ اس نے جب چاہا
تمام ہستی دل کو جگا کے لوٹ لیا
کرشمہ سازئ حسن ازل، ارے توبہ
مِرا ہی آئینہ مجھ کو دکھا کے لوٹ لیا
نہ لٹتے ہم مگر ان مست انکھڑیوں نے جگر
نظر بچاتے ہوئے،۔ ڈبڈبا کے لوٹ لیا
جگر مراد آبادی
No comments:
Post a Comment