عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
مدینے کی فضاؤں میں بکھر جائیں تو اچھا ہو
ہم اپنی موت کو حیران کر جائیں تو اچھا ہو
نہیں ہے حوصلہ روضہ تمہارا تکتے رہنے کا
جنوں کہتا ہے تکتے تکتے مر جائیں تو اچھا ہو
مِری نم ناک آنکھوں کا یہی اب تو تقاضہ ہے
جو ٹھنڈی ٹھنڈی آہیں میرے سینے میں مہکتی ہیں
وہ اوروں کے دلوں میں بھی اتر جائیں تو اچھا ہو
جسے سنتے ہی دل سرشار ہوں عشقِ محمدؐ سے
رقم ایسی کوئی ہم نعت کر جائیں تو اچھا ہو
بنامِ مصطفےٰ ہو امن یا رب پھر کراچی میں
مِرے کشمیر کے بھی دن سدھر جائیں تو اچھا ہو
میں جن کو روح کے قرطاس پہ محسوس کرتا ہوں
وہ جذبے کاش کاغذ پر اتر جائیں تو اچھا ہو
وہاں کیسی محبت دل جہاں سجدوں سے قاصر ہو
جبینِ دل کو لے کر ان کے در جائیں تو اچھا ہو
خیالوں میں کئی الفاظ نے آ کر تمنا کی
نبی کی نعت سے ہم بھی سنور جائیں تو اچھا ہو
اسی ہی آسؔ میں رہتی ہیں اکثر منتظر آنکھیں
بلاوا آئے، ہم با چشمِ تر جائیں تو اچھا ہو
سعادت حسن آس
No comments:
Post a Comment