Tuesday, 15 September 2020

مدینے کی فضاؤں میں بکھر جائیں تو اچھا ہو

عارفانہ کلام حمد نعت مقبت

مدینے کی فضاؤں میں بکھر جائیں تو اچھا ہو
ہم اپنی موت کو حیران کر جائیں تو اچھا ہو
نہیں ہے حوصلہ روضہ تمہارا تکتے رہنے کا
جنوں کہتا ہے تکتے تکتے مر جائیں تو اچھا ہو
مِری نم ناک آنکھوں کا یہی اب تو تقاضہ ہے
تمہارے پیار کی حد سے گزر جائیں تو اچھا ہو
جو ٹھنڈی ٹھنڈی آہیں میرے سینے میں مہکتی ہیں
وہ اوروں کے دلوں میں بھی اتر جائیں تو اچھا ہو
جسے سنتے ہی دل سرشار ہوں عشقِ محمدؐ سے
رقم ایسی کوئی ہم نعت کر جائیں تو اچھا ہو
بنامِ مصطفےٰ ہو امن یا رب پھر کراچی میں
مِرے کشمیر کے بھی دن سدھر جائیں تو اچھا ہو
میں جن کو روح کے قرطاس پہ محسوس کرتا ہوں
وہ جذبے کاش کاغذ پر اتر جائیں تو اچھا ہو
وہاں کیسی محبت دل جہاں سجدوں سے قاصر ہو
جبینِ دل کو لے کر ان کے در جائیں تو اچھا ہو
خیالوں میں کئی الفاظ نے آ کر تمنا کی
نبی کی نعت سے ہم بھی سنور جائیں تو اچھا ہو
اسی ہی آسؔ میں رہتی ہیں اکثر منتظر آنکھیں
بلاوا آئے، ہم با چشمِ تر جائیں تو اچھا ہو

سعادت حسن آس

No comments:

Post a Comment