خیال و خواب میں دیوار و در بناتے ہوئے
ہمیں تو عمر لگی ایک گھر بناتے ہوئے
عذابِ دشت نوردی کا سامنا ہے مجھے
سو ڈر رہا ہوں تجھے ہمسفر بناتے ہوئے
بنا رہا تھا پرندہ میں ایک کاغذ پر
وہ دکھ اٹھائے کہ جاں سے گزر گئے ہم لوگ
عروسِ خاک! تجھے معتبر بناتے ہوئے
وہ نقش پھر بھی نہ شمشیر بن سکا مجھ سے
میں آپ ٹوٹ گیا ٹوٹ کر بناتے ہوئے
شمشیر حیدر
No comments:
Post a Comment