دیپ جلتا ہے نہ آتی ہے صدا شام ڈھلے
بھیگ جاتی ہے مِرے گھر کی فضا شام ڈھلے
اب اسے رات کے صحراؤں میں کرتا ہوں تلاش
"جس نے اک دن مجھے ملنے کو کہا، "شام ڈھلے
بس اسی آس پہ ہم تا بہ سحر جاگتے ہیں
وقتِ رخصت تیرا چہرہ نہیں دیکھا جاتا
خامشی سے کبھی ہو جانا جدا شام ڈھلے
آندھیاں رک کے ادا کرتی ہیں چلنے کا خراج
جب بھی جلتا ہے کوئی ٹوٹا دِیا شام ڈھلے
ورنہ سورج کی طرح میں بھی کہیں ڈھل جاتا
روک لیتی ہے مجھے میری انا شام ڈھلے
جب بھی گرتے ہیں رگِ جاں میں سلگتے آنسو
دم بخود دیکھتی رہتی ہے ہوا شام ڈھلے
اس طرح اس کو لگی شہرِ جدائی کی ہوا
جیسے لگتی ہے کسی ماں کی دعا شام ڈھلے
احمد حماد
No comments:
Post a Comment