شمعِ احساس سے اٹھتا ہے دھواں تیرے بعد
خاکِ ایماں میں پنپتے ہیں گماں تیرے بعد
سوچتا ہوں کہ مرا سوگ منانے کے لیے
کون آئے گا تہی چشم یہاں تیرے بعد
پھول مرجھا گئے خوشبو کی ندی سوکھ گئی
جس جگہ تیرے پرستار رہا کرتے تھے
ڈھیر مٹی کے نظر آئے وہاں تیرے بعد
ایک آواز ہوئے جائیں مِرے اشکِ رواں
ایک تصویر ہوئی جائے زباں تیرے بعد
بڑھ گئی خاک کے بازار میں پانی کی رسد
ڈھے گئی خواب کی معروف دکاں تیرے بعد
قریۂ عشق کے برباد گلی کوچوں میں
بال کھولے ہوئے پھرتی ہے فغاں تیرے بعد
سخت حیرت میں لکھا ہے میرے یاروں نے مجھے
بولتے ہی نہیں بستی کے جواں تیرے بعد
احمد حماد
No comments:
Post a Comment