جتنا ہوں بے قرار، تجھے دیکھ کر ہوا
دل میں لہو، شرار تجھے دیکھ کر ہوا
آنے سے تیرے ہجر کی صورت، بدل گئی
یہ وصل کا خمار، تجھے دیکھ کر ہوا
کل تک خزاں گزیدہ درختوں کا شور تھا
کیسے کہوں یہ تجھ سے، مِری جانِ آرزو
سانسوں پہ اعتبار، تجھے دیکھ کر ہوا
مجھ سے خفا نہ ہو، مِرے اچھے دنوں کے یار
بانہوں کا یہ حصار، تجھے دیکھ کر ہوا
مبشر سعید
No comments:
Post a Comment