Saturday, 5 September 2020

خواب سننے سے گئے عشق بتانے سے گئے

خواب سننے سے گئے عشق بتانے سے گئے
زندگی ہم تِری توقیر بڑھانے سے گئے
گھر کے آنگن میں لگا پیڑ کٹا ہے جب سے
ہم تِری بات پرندوں کو سنانے سے گئے
جز تجھے دیکھنے کے اور نہیں تھا کوئی کام
یہ الگ بات کسی اور بہانے سے گئے
جب سے وحشت نے نئی شکل نکالی اپنی
ہم جنوں زاد کسی دشت میں جانے سے گئے
وقت پر اس نے پہنچنے کا کہلوایا تھا
ہم ہی تاخیر سے پہنچے سو ٹھکانے سے گئے
آسماں روز مِرے خواب میں آ جاتا ہے
ہم خیالوں میں حسیں چاند بنانے سے گئے
دل کی تنہائی میں وحشت کی دراڑیں ہیں سعید
ہم دراڑوں میں تِرا ہجر بسانے سے گئے

مبشر سعید

No comments:

Post a Comment