دل فقط ہجر سے آباد نہیں رکھ سکتا
جانِ جاں اب میں تجھے یاد نہیں رکھ سکتا
تُو جو چاہے تو مجھے چھوڑ کے جا سکتا ہے
اس سے بڑھ کر میں تجھے شاد نہیں رکھ سکتا
تُو اگر ہے تو کسی لمحۂ موجود میں آ
پہلے خود اس کی اسیری کا طلبگار تھا میں
اور اب وہ مجھے آزاد نہیں رکھ سکتا
میرا وعدہ ہے تیرا ساتھ نبھاؤں گا ضرور
ہاں مگر، میں کوئی معیاد نہیں رکھ سکتا
اکبر معصوم
No comments:
Post a Comment