Monday, 7 September 2020

اک عمر میں اچھا لگتا ہے

گیت

اک عمر میں اچھا لگتا ہے

جب جھومر سر پر سجتا ہے
کانوں میں جھمکا جچتا ہے
آنکھوں میں کجرا رچتا ہے
بالوں میں گجرا لگتا ہے
جب بانہہ میں کنگن بجتا ہے
اک عمر میں اچھا لگتا ہے

جب دل کو دھڑکنا آتا ہے
پھولوں کو مہکنا آتا ہے
قدموں کو بہکنا آتا ہے
بانہوں میں سمٹنا آتا ہے
جب جیون سپنا لگتا ہے
اک عمر میں اچھا لگتا ہے

اب شام ڈھلی، تم آئے ہو
الفت کے سندیسے لائے ہو
کچھ گھبرائے، پچھتائے ہو
جو دل میں روگ چھپائے ہو
بر وقت ہی سچا لگتا ہے
اک عمر میں اچھا لگتا ہے

وہ وقت گیا، وہ بات گئی
وہ سپنوں کی بارات گئی
وہ صبح گئی، وہ رات گئی
ارمانوں کی سوغات گئی
جس پَل کو دل یہ ترستا ہے
اک عمر میں اچھا لگتا ہے

اب بالوں میں چاندی جھلکی
ہے عارض پر زردی ہلکی
رنگین چُنر سر سے ڈھلکی
ہر سانس ہوئی ہلکی پھلکی
ماضی جو خواب سا لگتا ہے
اک عمر میں اچھا لگتا ہے

سچائی یہاں پر باطل ہے
یہ وقت بڑا ہی قاتل ہے
مقدور کہاں اب ساحل ہے
تجدیدِ وفا لاحاصل ہے
یہ روگ جو سچا لگتا ہے
اک عمر میں اچھا لگتا ہے

رضیہ سبحان

No comments:

Post a Comment