گیت
اک عمر میں اچھا لگتا ہے
جب جھومر سر پر سجتا ہے
کانوں میں جھمکا جچتا ہے
آنکھوں میں کجرا رچتا ہے
بالوں میں گجرا لگتا ہے
جب بانہہ میں کنگن بجتا ہے
اک عمر میں اچھا لگتا ہے
جب دل کو دھڑکنا آتا ہے
پھولوں کو مہکنا آتا ہے
قدموں کو بہکنا آتا ہے
بانہوں میں سمٹنا آتا ہے
جب جیون سپنا لگتا ہے
اک عمر میں اچھا لگتا ہے
اب شام ڈھلی، تم آئے ہو
الفت کے سندیسے لائے ہو
کچھ گھبرائے، پچھتائے ہو
جو دل میں روگ چھپائے ہو
بر وقت ہی سچا لگتا ہے
اک عمر میں اچھا لگتا ہے
وہ وقت گیا، وہ بات گئی
وہ سپنوں کی بارات گئی
وہ صبح گئی، وہ رات گئی
ارمانوں کی سوغات گئی
جس پَل کو دل یہ ترستا ہے
اک عمر میں اچھا لگتا ہے
اب بالوں میں چاندی جھلکی
ہے عارض پر زردی ہلکی
رنگین چُنر سر سے ڈھلکی
ہر سانس ہوئی ہلکی پھلکی
ماضی جو خواب سا لگتا ہے
اک عمر میں اچھا لگتا ہے
سچائی یہاں پر باطل ہے
یہ وقت بڑا ہی قاتل ہے
مقدور کہاں اب ساحل ہے
تجدیدِ وفا لاحاصل ہے
یہ روگ جو سچا لگتا ہے
اک عمر میں اچھا لگتا ہے
رضیہ سبحان
No comments:
Post a Comment