خوشبو سا کوئی دن تو ستارا سی کوئی شام
بھیجو تو کبھی نور کا دھارا سی کوئی شام
پوروں سے نکل کر یہ کہاں جاتی ہے جانے
آتی ہی نہیں ہاتھ میں پارا سی کوئی شام
یادوں کی ہواؤں میں بڑا زار تھا شاید
رہتی ہے مِرے کمرے میں کوئی تیرہ اداسی
اے شعلہ بدن بھیج شرارہ سی کوئی شام
اس دن کے سمندر میں جو شل ہوتے ہیں بازو
افلاک سے آتی ہے کنارا سی کوئی شام
ہم روز ہی دفناتے ہیں بجھتا ہوا سورج
پھر ڈھونڈنے جاتے ہیں سہارا سی کوئی شام
سلیم فگار
No comments:
Post a Comment