Monday, 7 September 2020

خوشبو سا کوئی دن تو ستارہ سی کوئی شام

خوشبو سا کوئی دن تو ستارا سی کوئی شام
بھیجو تو کبھی نور کا دھارا سی کوئی شام
پوروں سے نکل کر یہ کہاں جاتی ہے جانے
آتی ہی نہیں ہاتھ میں پارا سی کوئی شام
یادوں کی ہواؤں میں بڑا زار تھا شاید
ہے بکھری پڑی پاؤں میں گارا سی کوئی شام
رہتی ہے مِرے کمرے میں کوئی تیرہ اداسی
اے شعلہ بدن بھیج شرارہ سی کوئی شام
اس دن کے سمندر میں جو شل ہوتے ہیں بازو
افلاک سے آتی ہے کنارا سی کوئی شام
ہم روز ہی دفناتے ہیں بجھتا ہوا سورج
پھر ڈھونڈنے جاتے ہیں سہارا سی کوئی شام

سلیم فگار

No comments:

Post a Comment