Monday, 7 September 2020

فلک لاکھ بجلی گراتا رہے گا

فلک لاکھ بجلی گراتا رہے گا 
جہاں ہے وہیں آشیانہ رہے گا 
سلامت جو مشقِ تصور ہے تو پھر 
تمہارا ہی ہر سمت جلوہ رہے گا 
وہ دنیا تو جانے جو میں جانتا ہوں 
تُو ہی حاصلِ بزمِ دنیا رہے گا 
مجھے ڈوب جانے دو پھر دیکھ لینا 
نہ ساحل، نہ طوفاں، نہ دریا رہے گا 
جہاں تک نہ آئے گی نیند ان کو سن کر 
وہیں تک ہمارا فسانہ رہے گا 
نہ تم اپنے عہدِ محبت کو بدلو 
زمانہ تو کروٹ بدلتا رہے گا 
تُو بن جائے گا ایک دن دل کا درماں 
جو ہر روز کچھ درد بڑھتا رہے گا 
گِلہ ان سے کیا؟ بے وفائی کا افقر
خبر کیا تھی دل ہی نہ اپنا رہے گا 

افقر موہانی وارثی

No comments:

Post a Comment