فلک لاکھ بجلی گراتا رہے گا
جہاں ہے وہیں آشیانہ رہے گا
سلامت جو مشقِ تصور ہے تو پھر
تمہارا ہی ہر سمت جلوہ رہے گا
وہ دنیا تو جانے جو میں جانتا ہوں
مجھے ڈوب جانے دو پھر دیکھ لینا
نہ ساحل، نہ طوفاں، نہ دریا رہے گا
جہاں تک نہ آئے گی نیند ان کو سن کر
وہیں تک ہمارا فسانہ رہے گا
نہ تم اپنے عہدِ محبت کو بدلو
زمانہ تو کروٹ بدلتا رہے گا
تُو بن جائے گا ایک دن دل کا درماں
جو ہر روز کچھ درد بڑھتا رہے گا
گِلہ ان سے کیا؟ بے وفائی کا افقر
خبر کیا تھی دل ہی نہ اپنا رہے گا
افقر موہانی وارثی
No comments:
Post a Comment